وضاحت (Explanation)
مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور زمین پر سب سے مبارک جگہ ہے۔ جب ایک مومن دنیا کے کاموں کو چھوڑ کر مسجد کی طرف قدم بڑھاتا ہے، تو وہ درحقیقت دنیاوی فکروں سے نکل کر رب کے دربار میں حاضری دے رہا ہوتا ہے۔ اس دعا میں "رحمت کے دروازے" مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ یا اللہ! میرے دل کو اپنی عبادت کے لیے کھول دے، میری نمازوں میں خشوع و خضوع پیدا کر اور مجھ پر اپنا خصوصی فضل فرما۔ یہ دعا ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اللہ کی رحمت کے بغیر ہم نہ تو سچی بندگی کر سکتے ہیں اور نہ ہی سکونِ قلب پا سکتے ہیں۔
کیا اس کا کوئی قرآنی یا حدیثی حوالہ ہے؟
یہ دعا صحیح مسلم (حدیث نمبر: 713)، سنن ابی داؤد اور سنن نسائی میں مروی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو نبی ﷺ پر سلام بھیجے اور پھر یہ کہے: "اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ"۔ اگرچہ یہ الفاظ حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہیں، لیکن قرآنِ پاک میں بھی اللہ کی رحمت کا ذکر کثرت سے ملتا ہے، جیسا کہ سورہ فاطر (آیت 2) میں ارشاد ہے: "اللہ لوگوں کے لیے اپنی رحمت میں سے جو کچھ کھول دے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں"۔
خلاصہ (Summary)
مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھنا اللہ کے حضور عاجزی اور اس کی رحمت کی طلب کا اظہار ہے۔ یہ دعا انسان کو ذہنی اور روحانی طور پر عبادت کے لیے تیار کرتی ہے اور مسجد کے تقدس کا احساس دلاتی ہے۔ اس کے ذریعے ہم اللہ سے یہ التجا کرتے ہیں کہ اس کے گھر میں ہمارا داخلہ ہمارے گناہوں کی معافی اور برکتوں کا سبب بن جائے۔
کیا آپ نے کبھی مسجد میں داخل ہوتے وقت اس دعا سے ملنے والے سکون کو محسوس کیا ہے؟