وضاحت (Explanation)
یہ دعا ایک مومن کے دل کی اس تڑپ اور آرزو کی عکاسی کرتی ہے جو وہ رمضان جیسے بابرکت مہینے کی آمد کے لیے رکھتا ہے۔ اس کا مقصد صرف کیلنڈر کی تاریخ تک پہنچنا نہیں، بلکہ اللہ سے ایسی صحت، زندگی اور ایمان کی سلامتی مانگنا ہے کہ انسان اس ماہِ مقدس کی تمام تر سعادتوں اور رحمتوں کو سمیٹنے کے قابل ہو سکے۔ بزرگانِ دین اور صحابہ کرام رمضان کے آنے سے مہینوں پہلے یہ التجا شروع کر دیتے تھے، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ مہینہ گناہوں کی معافی اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔ یہ دعا ہمیں احساس دلاتی ہے کہ زندگی کی ہر گھڑی اللہ کی نعمت ہے اور نیکی کا موقع ملنا اس کا خاص فضل ہے۔
کیا اس کا کوئی قرآنی یا حدیثی حوالہ ہے؟
یہ دعا ایک مشہور حدیث سے ماخوذ ہے جو امام احمد اور طبرانی نے روایت کی ہے۔ حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ جب رجب کا مہینہ شروع ہوتا تو رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرماتے تھے: "اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے" (اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبلّغنا رمضان)۔ اگرچہ قرآن میں ان الفاظ کا ذکر نہیں، لیکن سورہ البقرہ (آیت 185) میں رمضان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اسے وہ مہینہ قرار دیا گیا ہے جس میں قرآن نازل ہوا، اسی فضیلت کی وجہ سے اس تک پہنچنے کی دعا کی جاتی ہے۔
خلاصہ (Summary)
یہ دعا اللہ تعالیٰ سے خیر و عافیت کے ساتھ نیکی کا موقع مانگنے کا نام ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ رمضان جیسی عظیم نعمت کا ملنا اللہ کی طرف سے ایک بہت بڑا تحفہ ہے، جس کے لیے پیشگی روحانی تیاری ضروری ہے۔ اس دعا کے ذریعے بندہ اپنی عاجزی کا اظہار کرتا ہے اور اس امید کا دامن تھامتا ہے کہ اسے مغفرت کا ایک اور موقع مل جائے گا۔ یہ دعا مومن کے شوقِ عبادت اور جذبہِ ایمانی کو جِلا بخشتی ہے۔
کیا آپ نے اس سال رمضان کی تیاری ابھی سے شروع کر دی ہے؟