وضاحت (Explanation)
چھینک آنا صحت کی ایک علامت اور اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ جب کوئی شخص چھینکنے کے بعد "الحمدللہ" کہتا ہے، تو سننے والے کے لیے "یرحمک اللہ" کہنا ایک اہم حق اور سنتِ نبوی ہے۔ یہ مختصر سی دعا مسلمانوں کے درمیان باہمی محبت، خیر خواہی اور ہمدردی کے جذبات کو پروان چڑھاتی ہے۔ یہ عمل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی ہر چھوٹی بڑی حرکت اللہ کے حکم کے تابع ہے، اور مومن کو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنے بھائی کے لیے رحمت کی دعا کرنی چاہیے۔
کیا اس کا کوئی قرآنی یا حدیثی حوالہ ہے؟
جی ہاں، یہ عمل حدیثِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے۔ صحیح بخاری (حدیث نمبر 6224) میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی پر یہ حق ہے کہ جب وہ چھینک لے اور اللہ کی تعریف (الحمدللہ) کرے، تو سننے والا 'یرحمک اللہ' (اللہ تم پر رحم کرے) کہے۔"
خلاصہ (Summary)
چھینک پر الحمد للہ کہنے والے کو 'یرحمک اللہ' کہنا ایک اہم سنت اور اسلامی حق ہے۔ یہ مختصر دعا آپس میں الفت اور خیر خواہی کے جذبات کو پروان چڑھاتی ہے۔ یہ عمل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی ہر چھوٹی بڑی نعمت اللہ کی عطا ہے اور اس پر شکر گزاری لازم ہے۔ اس طرح کے چھوٹے اعمال سے معاشرے میں حسنِ اخلاق اور باہمی تعلقات میں بہتری آتی ہے۔
اگر کوئی چھینکنے کے بعد 'الحمدللہ' کہنا بھول جائے، تو کیا ہمیں 'یرحمک اللہ' کہنا چاہیے؟