وضاحت (Explanation)
مسجد سے نکلنا درحقیقت عبادت کے مخصوص وقت سے دنیاوی ذمہ داریوں اور حلال رزق کی تلاش کی طرف واپسی ہے۔ اس دعا میں لفظ "فضل" کا استعمال بہت معنی خیز ہے، کیونکہ شریعت کی اصطلاح میں فضل سے مراد اکثر دنیاوی نعمتیں اور حلال روزی لی جاتی ہے۔ جب ہم مسجد سے باہر قدم نکالتے ہیں تو اللہ سے التجا کرتے ہیں کہ جو روحانی پاکیزگی ہم نے اندر حاصل کی، اب باہر کی دنیا میں ہمارے کاروبار، ملازمت اور معاملات میں بھی تیری برکت اور فضل شاملِ حال رہے تاکہ ہم رزقِ حلال کما سکیں اور فتنوں سے محفوظ رہیں۔
کیا اس کا کوئی قرآنی یا حدیثی حوالہ ہے؟
یہ دعا صحیح مسلم (حدیث نمبر: 713) اور سنن ابی داؤد میں منقول ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے سکھایا کہ مسجد سے نکلتے وقت کہو: "اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ"۔ یہ دعا قرآن مجید کی سورہ الجمعہ (آیت نمبر: 10) کے عین مطابق ہے، جہاں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ" (پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو)۔
خلاصہ (Summary)
مسجد سے نکلتے وقت یہ دعا بندے کے دنیاوی سفر میں اللہ کی رہنمائی اور برکت کی طلب ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت کے بعد رزق کی تلاش بھی اللہ ہی کے بھروسے پر ہونی چاہیے۔ "فضل" مانگنے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری روزی روٹی میں اللہ کی خیر شامل ہو اور ہم دنیا کے کاموں میں بھی اللہ کو نہ بھولیں۔ یہ دعا دین اور دنیا کے درمیان ایک خوبصورت توازن قائم کرتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اسلام میں دین اور دنیا دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کتنی خوبصورت تعلیم دی گئی ہے؟