, امّت کا غم ہے کیا کوئی پوچھے حضور سے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

امّت کا غم ہے کیا کوئی پوچھے حضور سے Lyrics In اردو

(امّت کا غم ہے کیا کوئی پوچھے حضور سے, آنسوں چھلک چھلک پڑے چسمانے نور سے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: امّت کا غم ہے کیا کوئی پوچھے حضور سے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 04 Jul, 2022 07:15 AM IST

دیکھا گیا: 3.6K

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

امّت کا غم ہے کیا کوئی پوچھے حضور سے
آنسوں چھلک چھلک پڑے چسمانے نور سے
افطار کر رہے ہیں مدینے میں مصطفیٰ
پانی سے یا نمک سے یا اجوا کھجور سے

آنسوں چھلک چھلک پڑے چسمانے نور سے

جبریل که رہے ہیں فرشتوں کی بزم میں
پیرا میرا بلال ہے جنّت کی ہور سے
جبریل که رہے ہیں فرشتوں کی بزم میں
کتنا حسین بلال ہے جنّت کی ہور سے
اس واسطے زکات کو لازم کیا گیا
مفلس کے گھر میں روشنی پہونچے حضور سے

آنسوں چھلک چھلک پڑے چسمانے نور سے

دشمن بھی چہرہ دیکھے تو وہ بھی یہی کہے
اختر چمک رہا ہے اندھیرے میں نور سے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ رقت انگیز اور دل کو چھو لینے والی نعتِ شریف حضور اکرم ﷺ کی اپنی امت کے لیے تڑپ، حضرت بلال حبشیؓ کے باطنی حسن، نظامِ زکوٰۃ کی حکمت اور اولیاء اللہ کے چہرے کے نور کا ایک نہایت حسین اور عقیدت مندانہ بیاں ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ امت کا حقیقی درد اور فکر کیا ہوتی ہے، تو وہ حضورِ پاک ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے پوچھے جن کی نورانی آنکھوں (چشمانِ نور) سے امت کی بخشش کے لیے ہمیشہ آنسو جاری رہتے تھے۔ آپ ﷺ مدینہ منورہ میں انتہائی سادگی کے ساتھ پانی، نمک یا اجوا کھجور سے افطار فرماتے اور ہر لمحہ اپنی امت کی مغفرت کے لیے روتے تھے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی (Urdu)
چشمانِ نورنورانی آنکھیں / مبارک آنکھیں
بزممحفل / مجلس
اجوامدینہ منورہ کی ایک خاص، برکت والی اور افضل کھجور
لازمضروری / فرض کیا گیا
مفلسغریب / نادار یا محتاج

خلاصہ (Summary)

شاعر کہتا ہے کہ حضور ﷺ کو اپنی امت کا اس قدر غم ہے کہ ان کی آنکھیں ہر وقت اشکبار رہتی ہیں۔ کلام میں بتایا گیا ہے کہ فرشتوں کی محفل میں حضرت جبرائیلؑ بھی حضرت بلالؓ کے سچے عشق اور وفاداری کی تعریف کرتے ہوئے انہیں جنت کی حوروں سے بھی زیادہ پیارا اور حسین قرار دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ اسلام میں زکوٰۃ کو اس لیے فرض کیا گیا تاکہ امیروں کے مال کے ذریعے غریبوں (مفلسوں) کے گھروں میں بھی خوشیوں کی روشنی پہنچ سکے۔ آخر میں شاعر کہتا ہے کہ فیضانِ رسالت کی برکت سے حضور تاجو الشریعہ اختر رضا خان کا چہرہ اندھیرے میں بھی نور کی طرح چمکتا نظر آتا ہے۔

نعت کے مطابق، غریبوں اور ناداروں (مفلس) کے گھر تک خوشی کی روشنی پہنچانے کے لیے کس اسلامی فرض کو 'لازم' (ضروری) کیا گیا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: