मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: طیبہ بلانا آقا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 20 Mar, 2023 12:43 PM IST
دیکھا گیا: 1.2K
Time to read: 1 min read
طیبہ بلانا آقا، طیبہ بلانا
طیبہ بلا کے دل کی حسرت مٹانا
طیبہ بلانا آقا، طیبہ بلانا.....
صبح اور شام لوںگا تیرا پیرا نام لوںگا،
قبر میں آقا تیرے دامن کو تھام لوںگا،
تو ایسی گھڑی میں رخ سے پردہ ہٹھانا،
جلوہ دکھانا آقا، جلوہ دکھانا.....
تیرا جب دیدار ہوگا دل کو کرار ہوگا،
تیرے ہی کرم سے آقا بیڑا سب کا پار ہوگا،
عیب ہمارے اپنے دامن میں چھپانا،
بخشش کرانا آقا، بخشش کرانا.....
طیبہ بلانا آقا، طیبہ بلانا.....
رحمت ہے، نور ہے، کیف ہے، سرور ہے،
جلسے میں دیکھو یارو جلواۓ حضور ہے،
نورانی جلسہ ہے یہ کتنا سہانا،
نبی کا دیوانہ سب ہے نبی کا دیوانہ،
نبی کا دیوانہ سب ہے نبی کا دیوانہ
یا الہی میری یہ، یا الہی سب کی یہ التیجا قبول ہو،
سب کی لهد میں یارو جلواۓ حضور ہو،
تو دیکھونگا جی بھر کے ان کا مسکرانا،
اپنا بنانا آقا، اپنا بنانا آقا،
اپنا بنانا آقا، اپنا بنانا آقا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ دربارِ رسالت ﷺ میں حاضری کی تڑپ اور عشقِ رسول ﷺ سے لبریز ایک نہایت رقت آمیز اور خوبصورت نعتِ پاک ہے، جس میں شاعر مدینہ منورہ کی زیارت اور نزع و قبر کے کٹھن مراحل میں حضور ﷺ کی رحمت اور دیدار کا طلب گار ہے۔
ان پُر سوز اشعار کا مطلب ہے کہ "اے میرے پیارے آقا ﷺ! مجھے مدینہ منورہ (طیبہ) بلا کر میرے دل کی یہ ادھوری حسرت پوری فرما دیجیے۔" شاعر کہتا ہے کہ جب میں دنیا چھوڑ کر قبر کے اندھیرے میں پہنچوں گا تو آپ ﷺ کے دامنِ کرم کو تھام لوں گا، بس آپ اس کڑے وقت میں اپنے رخِ انور سے پردہ ہٹا کر اپنا دیدار کرا دینا اور میرے عیبوں کو چھپا کر میری بخشش فرما دینا۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| طیبہ | مدینہ منورہ کا ایک پاکیزہ نام |
| حسرت | دل کی شدید خواہش یا تمنا |
| رخ / قرار | چہرہ یا مکھڑا / سکون اور چین |
| بیڑا پار ہونا | کامیابی ملنا / بیڑا پار ہونا یا نجات پانا |
| عیب | برائیاں، کمیاں یا گناہ |
| کیف و سرور | باطنی خوشی اور روحانی نشہ و سکون |
| التیجا (التجا) / لحد | گزارش یا دعا / قبر |
اس کلامِ بلاغت نظام کا لبِ لباب یہ ہے کہ نعت کا یہ نورانی جلسہ رحمت اور فرشتوں کا مرکز ہے جہاں موجود ہر امتی آقا ﷺ کا سچا دیوانہ ہے۔ شاعر بارگاہِ الٰہی میں عاجزانہ دعا کرتا ہے کہ الٰہی! ہم سب کی یہ التجا قبول فرما کہ جب ہم قبر کی تنہائی میں جائیں تو وہاں رسولِ پاک ﷺ کا جلوہ موجود ہو، تاکہ ہم جی بھر کے اپنے آقا ﷺ کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ سکیں اور وہ ہمیں اپنا غلام بنا لیں۔
شاعر کے مطابق، جب وہ قبر (لحد) میں ہوں گے، تو وہ نبی ﷺ سے کس چیز کی التجا (گزارش) کر رہے ہیں؟