, رنگِ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

رنگِ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند Lyrics In اردو

(رنگِ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند, صحرائے طیبہ ہے دلِ بُلبُل کو تُو پسند)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: رنگِ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم

نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم

شامل کیا گیا: 07 Aug, 2023 09:19 AM IST

دیکھا گیا: 567

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

رنگِ چمن پسند نہ پھولوں کی بُو پسند،
صحرائے طیبہ ہے دلِ بُلبُل کو تُو پسند

اپنا عزیز وہ ہے جسے تو عزیز ہے،
ہم کو ہے وہ پسند جسے آئے تو پسند

مایوس ہو کے سب سے میں آیا ہوں تیرے پاس،
اے جان کر لے ٹُوٹے ہوئے دل کو تو پسند

قُلْ کہہ کر اپنی بات بھی لب سے تِرے سُنی،
اللہ کو ہے اتنی تری گفتگو پسند

ان کے گناہگار کی اُمیدِ عَفْو کو،
پہلے کرے گی آیتِ لَاتَقْنَطُوْا پسند

طیبہ میں سَر جھکاتے ہیں خاکِ نیاز پر،
کونین کے بڑے سے بڑے آبرو پسند

ہے خواہشِ وصالِ درِ یار اے حسنؔ،
آئے نہ کیوں اَثر کو میری آرزو پسند

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ رقت آمیز اور روحانیت سے بھرپور نعتِ پاک (مولانا حسن رضا خان حسنؔ بریلوی کی تخلیق) حضور نبیِ کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں ایک سچے عاشق کے دل کا نذرانہ، مدینہ شریف (طیبہ) سے سچی محبت اور مغفرت کی طلب کا بہترین اظہار ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

اس کلام کا مفہوم ہے کہ ایک سچے عاشق (دلِ بلبل) کو دنیا کے باغوں کے رنگ اور پھولوں کی خوشبو راغب نہیں کرتی، بلکہ اسے تو مدینے کا ریگستان (صحرائے طیبہ) ہی سب سے زیادہ محبوب ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے حبیب ﷺ سے اس قدر پیار ہے کہ وہ قرآنِ پاک میں 'قُلْ' (کہہ دیجیے) فرما کر اپنی بات بھی سرکار ﷺ کے مبارک لبوں سے سننا پسند کرتا ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

الفاظ (Word)معنی (Urdu / English Meaning)
رنگِ چمنباغ کی رنگینی یا خوبصورتی (Colors of the garden)
صحرائے طیبہمدینہ منورہ کا ریگستان (Desert of Madina)
عزیزپیارا یا مقرب (Dear / Beloved)
گفتگوبات چیت یا کلام (Conversation / Talk)
امیدِ عَفْومعافی اور بخشش کی آس (Hope of forgiveness)
لَاتَقْنَطُوْا"ناامید نہ ہونا" — یہ قرآنی آیت کا حصہ ہے (Do not despair)
خاکِ نیازعاجزی اور عقیدت کی مٹی (Ground of devotion)
وصالِ درِ یارمحبوب کے آستانے کی حاضری یا دیدار (Union with the beloved's threshold)

خلاصہ (Summary)

اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ایک گناہ گار انسان دنیا بھر کے سہاروں سے مایوس ہو جاتا ہے، تو وہ اپنا ٹوٹا ہوا دل لے کر آقا ﷺ کی بارگاہ میں پناہ لیتا ہے جہاں اسے قرآنی آیت 'لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللہِ' کے صدقے رحمتِ الٰہی کی پوری امید ہوتی ہے۔ شاعر 'حسنؔ' فرماتے ہیں کہ طیبہ وہ مقدس مقام ہے جہاں دونوں جہان کے بڑے بڑے معزز لوگ بھی اپنا سر جھکاتے ہیں، اس لیے ان کے دل کی بھی سب سے بڑی تمنا یہی ہے کہ انہیں درِ یار کا وصال نصیب ہو جائے۔

اس نعت کے مطابق، اللہ تعالیٰ کو حضور ﷺ کی کس چیز سے اتنی الفت (محبت) ہے کہ قرآن میں 'قُل' فرما کر انہی کے لبوں سے بات سنی؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں