मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 64 بار دیکھا گیا
,
عنوان: نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی چلیے شہرِ بریلی
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 26 Sep, 2022 02:39 PM IST
دیکھا گیا: 1.6K
Time to read: 1 min read
نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی، چلیے شہرِ بریلی
دربار انکا ہے مثل جنّت، اللہ تعالیٰ رکھے سلامت،
احمد رضا کی حویلی، چلیے شہرِ بریلی
نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی، چلیے شہرِ بریلی
یہ ہے تمنّا میں پھر سے پہنچوں،
اختر رضا کی حویلی، چلیے شہرِ بریلی
یہ ہے تمنّا میں پھر سے پہنچوں، بڑھ بڑھ کے چومو،
اختر رضا کی ہتھیلی، چلیے شہرِ بریلی
نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی، چلیے شہرِ بریلی
اے کاش ہوتا میں ایک پرندہ، شہرِ بریلی کا چکّر لگاتا،
جاتا صبح و شام ڈیلی، چلیے شہرِ بریلی
نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی، چلیے شہرِ بریلی
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ پرجوش منقبت مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی اور حضور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان بریلوی کی بارگاہ میں والہانہ عقیدت اور ان کے شہر، بریلی شریف کی حاضری کے دلی جذبات کا ایک خوبصورت بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ عاشقینِ رسول کا ایک بڑا قافلہ (ریلی) بریلی شہر کی طرف گامزن ہے، جہاں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کا دربار موجود ہے جو سکون و برکت میں جنت کی مانند ہے۔ شاعر کی دلی خواہش ہے کہ وہ دوبارہ بریلی جائے اور وہاں آگے بڑھ بڑھ کر تاج الشریعہ حضرت اختر رضا خان کی متبرک ہتھیلی کو عقیدت سے چومے۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| ریلی | جلوس / قافلہ یا اجتماع |
| مثلِ جنّت | جنت کی طرح / بہشت جیسا |
| حویلی | بڑا مکان (یہاں مراد بزرگوں کا آستانہ یا گھر ہے) |
| تمنّا | آرزو / دلی خواہش |
| پرندہ | پنچھی / اڑنے والا طائر |
| ڈیلی (Daily) | روزانہ / ہر روز |
شاعر بریلی شریف کو علم و روحانیت کا مرکز مانتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بزرگوں کے اس دربار کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ وہ اپنے دل کا انوکھا ارمان ظاہر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کاش وہ ایک پرندہ ہوتا، تاکہ دنیاوی رکاوٹوں سے آزاد ہو کر روزانہ صبح و شام اڑ کر بریلی شریف جاتا اور اس پاکیزہ شہر کے طواف (چکر) لگاتا رہتا۔
شاعر کے مطابق، بریلی شریف کا دربار کس کے جیسا (مثلِ) ہے اور وہ پرندہ بن کر وہاں کب کب جانے کی تمنا کر رہا ہے؟