, نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی چلیے شہرِ بریلی - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی چلیے شہرِ بریلی Lyrics In اردو

(نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی چلیے شہرِ بریلی, احمد رضا کی حویلی چلیے شہرِ بریلی)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی چلیے شہرِ بریلی

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)

نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)

شامل کیا گیا: 26 Sep, 2022 02:39 PM IST

دیکھا گیا: 1.6K

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی، چلیے شہرِ بریلی

دربار انکا ہے مثل جنّت، اللہ تعالیٰ رکھے سلامت،
احمد رضا کی حویلی، چلیے شہرِ بریلی

نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی، چلیے شہرِ بریلی

یہ ہے تمنّا میں پھر سے پہنچوں،
اختر رضا کی حویلی، چلیے شہرِ بریلی
یہ ہے تمنّا میں پھر سے پہنچوں، بڑھ بڑھ کے چومو،
اختر رضا کی ہتھیلی، چلیے شہرِ بریلی

نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی، چلیے شہرِ بریلی

اے کاش ہوتا میں ایک پرندہ، شہرِ بریلی کا چکّر لگاتا،
جاتا صبح و شام ڈیلی، چلیے شہرِ بریلی

نکلی ہے سُن٘ی کی ریلی، چلیے شہرِ بریلی

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ پرجوش منقبت مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی اور حضور تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان بریلوی کی بارگاہ میں والہانہ عقیدت اور ان کے شہر، بریلی شریف کی حاضری کے دلی جذبات کا ایک خوبصورت بیاں ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ عاشقینِ رسول کا ایک بڑا قافلہ (ریلی) بریلی شہر کی طرف گامزن ہے، جہاں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کا دربار موجود ہے جو سکون و برکت میں جنت کی مانند ہے۔ شاعر کی دلی خواہش ہے کہ وہ دوبارہ بریلی جائے اور وہاں آگے بڑھ بڑھ کر تاج الشریعہ حضرت اختر رضا خان کی متبرک ہتھیلی کو عقیدت سے چومے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی (Urdu)
ریلیجلوس / قافلہ یا اجتماع
مثلِ جنّتجنت کی طرح / بہشت جیسا
حویلیبڑا مکان (یہاں مراد بزرگوں کا آستانہ یا گھر ہے)
تمنّاآرزو / دلی خواہش
پرندہپنچھی / اڑنے والا طائر
ڈیلی (Daily)روزانہ / ہر روز

خلاصہ (Summary)

شاعر بریلی شریف کو علم و روحانیت کا مرکز مانتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بزرگوں کے اس دربار کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ وہ اپنے دل کا انوکھا ارمان ظاہر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کاش وہ ایک پرندہ ہوتا، تاکہ دنیاوی رکاوٹوں سے آزاد ہو کر روزانہ صبح و شام اڑ کر بریلی شریف جاتا اور اس پاکیزہ شہر کے طواف (چکر) لگاتا رہتا۔

شاعر کے مطابق، بریلی شریف کا دربار کس کے جیسا (مثلِ) ہے اور وہ پرندہ بن کر وہاں کب کب جانے کی تمنا کر رہا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں

Manqabat Lyrics

سبھی دیکھیں