, منور میری آنکھوں کو میرے شمس الضحیٰ کر دے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

منور میری آنکھوں کو میرے شمس الضحیٰ کر دے Lyrics In اردو

(منور میری آنکھوں کو میرے شمس الضحیٰ کر دے, جہاں بانی عطا کر دے بھری جنت ہبہ کر دے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: منور میری آنکھوں کو میرے شمس الضحیٰ کر دے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: اختر رضا خان ازہری

نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری

شامل کیا گیا: 05 Aug, 2023 10:38 AM IST

دیکھا گیا: 1.1K

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

منور میری آنکھوں کو میرے شمس الضحیٰ کر دے،
غموں کی دھوپ میں وہ سایۂ زلفِ دوتا کر دے۔

جہاں بانی عطا کر دے، بھری جنت ہبہ کر دے،
نبی مختارِ کُل ہیں، جس کو جو چاہے عطا کر دے۔

جہاں میں ان کی چلتی ہے، وہ دم میں کیا سے کیا کر دے،
زمین کو آسماں کر دے، ثریا کو سراہ کر دے۔

فضا میں اڑنے والے یوں نہ اترائیں ندان کر دے،
وہ جب چاہے جسے چاہے اسے فرما رواں کر دے۔

نبی سے جو ہے بیگانہ اسے دل سے جدا کر دے،
پدر، مادر، برادر، جان و مال ان پر فدا کر دے۔

مجھے کیا فکر ہو اختر، میرے یاور ہیں وہ یاور،
بلاؤں کو مری جو خود گرفتارِ بلا کر دے۔

عطا کر دے، بلا کر دے، بٹھا کر دے، اٹھا کر دے،
نبی مختارِ کُل ہیں، جسے جب چاہے عطا کر دے۔

سراخا کو بھی سونے کے تو وہ کنگن عطا کر دے،
نبی مختارِ کُل ہیں، جس کو جو چاہے عطا کر دے۔

تمنا اے دلِ اشرف بس اتنی ہے سرِ کوثر،
زباں کا جامِ کوثر دے، لبِ اقدس لگا کر دے۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ مقبولِ عام نعتِ پاک حضور سرورِ کائنات ﷺ کے رُخِ انور کی ضیا پاشیوں، ان کی بے پناہ رحمتوں اور بارگاہِ الٰہی سے ان کو حاصل اختیارات (مختارِ کل) کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ میرے آقا ﷺ پوری کائنات کے مالک و مختار ہیں، وہ خدا کے اذن سے جسے جو چاہیں عطا فرما سکتے ہیں اور دنیا کے دکھوں اور غموں کی دھوپ میں ان کی زلفوں کا سایہ سب سے بڑی پناہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ کی قدرت و طاقت کا یہ عالم ہے کہ وہ ایک پل میں زمین کو آسمان اور ثریا (بلندی) کو سراہ (مٹی) کر دیں، اور اپنے غلاموں پر آنے والی مصیبتوں کو خود قید فرما دیتے ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
شمس الضحیٰچمکتا ہوا سورج / چاشت کا سورج (حضور ﷺ کا لقب)
زلفِ دوتاخمدار، گھنگھریالی یا لمبی زلفیں
جہاں بانیدنیا کی بادشاہت یا حکومت
ہبہتحفہ دینا / بخش دینا
مختارِ کُلمکمل اختیار اور تصرف رکھنے والا
ثریاآسمان کا ایک بہت اونچا ستارہ
سراہزمین، مٹی یا خاک
پدر / مادر / برادرباپ / ماں / بھائی
یاورمددگار / حامی و ناصر

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ ایک سچے مومن کو دنیاوی فکروں سے آزاد ہو کر اپنے نبی ﷺ کی ذات پر کامل بھروسا رکھنا چاہیے اور ان کی محبت میں اپنے والدین، بھائی اور جان و مال سب کچھ قربان کر دینا چاہیے۔ شاعر 'اختر' اور 'اشرف' کہتے ہیں کہ جب ہمارے مددگار خود تاجدارِ مدینہ ﷺ ہیں تو ہمیں کسی بلا کا کوئی خوف نہیں، اور ہماری آخری تمنا یہی ہے کہ میدانِ محشر میں انہی کے لبِ اقدس سے جامِ کوثر پینے کا شرف حاصل ہو جائے۔

لیرکس کے مطابق نبی کریم ﷺ کو کیا بتایا گیا ہے، جو جس کو جو چاہیں عطا کر سکتے ہیں؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: