मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 74 بار دیکھا گیا
,
عنوان: منور میری آنکھوں کو میرے شمس الضحیٰ کر دے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اختر رضا خان ازہری
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 05 Aug, 2023 10:38 AM IST
دیکھا گیا: 1.1K
Time to read: 1 min read
منور میری آنکھوں کو میرے شمس الضحیٰ کر دے،
غموں کی دھوپ میں وہ سایۂ زلفِ دوتا کر دے۔
جہاں بانی عطا کر دے، بھری جنت ہبہ کر دے،
نبی مختارِ کُل ہیں، جس کو جو چاہے عطا کر دے۔
جہاں میں ان کی چلتی ہے، وہ دم میں کیا سے کیا کر دے،
زمین کو آسماں کر دے، ثریا کو سراہ کر دے۔
فضا میں اڑنے والے یوں نہ اترائیں ندان کر دے،
وہ جب چاہے جسے چاہے اسے فرما رواں کر دے۔
نبی سے جو ہے بیگانہ اسے دل سے جدا کر دے،
پدر، مادر، برادر، جان و مال ان پر فدا کر دے۔
مجھے کیا فکر ہو اختر، میرے یاور ہیں وہ یاور،
بلاؤں کو مری جو خود گرفتارِ بلا کر دے۔
عطا کر دے، بلا کر دے، بٹھا کر دے، اٹھا کر دے،
نبی مختارِ کُل ہیں، جسے جب چاہے عطا کر دے۔
سراخا کو بھی سونے کے تو وہ کنگن عطا کر دے،
نبی مختارِ کُل ہیں، جس کو جو چاہے عطا کر دے۔
تمنا اے دلِ اشرف بس اتنی ہے سرِ کوثر،
زباں کا جامِ کوثر دے، لبِ اقدس لگا کر دے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ مقبولِ عام نعتِ پاک حضور سرورِ کائنات ﷺ کے رُخِ انور کی ضیا پاشیوں، ان کی بے پناہ رحمتوں اور بارگاہِ الٰہی سے ان کو حاصل اختیارات (مختارِ کل) کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ میرے آقا ﷺ پوری کائنات کے مالک و مختار ہیں، وہ خدا کے اذن سے جسے جو چاہیں عطا فرما سکتے ہیں اور دنیا کے دکھوں اور غموں کی دھوپ میں ان کی زلفوں کا سایہ سب سے بڑی پناہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ کی قدرت و طاقت کا یہ عالم ہے کہ وہ ایک پل میں زمین کو آسمان اور ثریا (بلندی) کو سراہ (مٹی) کر دیں، اور اپنے غلاموں پر آنے والی مصیبتوں کو خود قید فرما دیتے ہیں۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| شمس الضحیٰ | چمکتا ہوا سورج / چاشت کا سورج (حضور ﷺ کا لقب) |
| زلفِ دوتا | خمدار، گھنگھریالی یا لمبی زلفیں |
| جہاں بانی | دنیا کی بادشاہت یا حکومت |
| ہبہ | تحفہ دینا / بخش دینا |
| مختارِ کُل | مکمل اختیار اور تصرف رکھنے والا |
| ثریا | آسمان کا ایک بہت اونچا ستارہ |
| سراہ | زمین، مٹی یا خاک |
| پدر / مادر / برادر | باپ / ماں / بھائی |
| یاور | مددگار / حامی و ناصر |
اس کلام کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ ایک سچے مومن کو دنیاوی فکروں سے آزاد ہو کر اپنے نبی ﷺ کی ذات پر کامل بھروسا رکھنا چاہیے اور ان کی محبت میں اپنے والدین، بھائی اور جان و مال سب کچھ قربان کر دینا چاہیے۔ شاعر 'اختر' اور 'اشرف' کہتے ہیں کہ جب ہمارے مددگار خود تاجدارِ مدینہ ﷺ ہیں تو ہمیں کسی بلا کا کوئی خوف نہیں، اور ہماری آخری تمنا یہی ہے کہ میدانِ محشر میں انہی کے لبِ اقدس سے جامِ کوثر پینے کا شرف حاصل ہو جائے۔
لیرکس کے مطابق نبی کریم ﷺ کو کیا بتایا گیا ہے، جو جس کو جو چاہیں عطا کر سکتے ہیں؟