मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 41 بار دیکھا گیا
,
عنوان: کچھ کریں اپنے یار کی باتیں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اختر رضا خان ازہری
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 05 Aug, 2023 10:48 AM IST
دیکھا گیا: 287
Time to read: 1 min read
کچھ کریں اپنے یار کی باتیں،
کچھ دلِ داغدار کی باتیں۔
ہم تو دل اپنا دے ہی بیٹھے ہیں،
اب یہ کیا اختیار کی باتیں۔
میں بھی گزرا ہوں دورِ اُلفت سے،
مت سُنا مجھ کو پیار کی باتیں۔
اہلِ دل ہی یہاں نہیں کوئی،
کیا کریں حالِ زار کی باتیں۔
پی کے جامِ محبتِ جاناں،
اللہ اللہ خمار کی باتیں۔
مر نہ جانا متاعِ دنیا پر،
سن کے تُو مالدار کی باتیں۔
یوں نہ ہوتے اسیرِ ذلّت تم،
سُنتے گر ہوشیار کی باتیں۔
ہر گھڑی وجد میں رہے اختر،
کیجیے اُس دیار کی باتیں۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ صوفیانہ کلام اور نعت دل کی سچی تڑپ، عشقِ رسول ﷺ اور دنیا کی بے ثباتی کا ایک خوبصورت آئینہ ہے، جس میں دنیاوی مال و دولت کو چھوڑ کر محبوبِ خدا ﷺ کی یاد اور ان کے شہر (مدینہ) کے تذکرے پر زور دیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ ہم اپنا دل تو پہلے ہی اپنے پیارے نبی ﷺ کو دے بیٹھے ہیں، اس لیے اب ہماری ذات پر ہمارا کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا کے مالداروں کی باتیں سن کر اس فانی دولت پر مت مٹو، بلکہ عقل مندوں کی نصیحت پر عمل کرو تاکہ ذلت اور رسوائی کی قید سے بچ سکو۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| دلِ داغدار | عشق یا غم کا زخمی دل |
| اختیار | بس میں ہونا / قابو یا حق |
| دورِ اُلفت | محبت کا زمانہ یا دور |
| حالِ زار | بری حالت / دردناک احوال |
| خمار | نشہ / سرور |
| متاعِ دنیا | دنیا کا مال و اسباب / فانی دولت |
| اسیرِ ذلّت | رسوائی اور ذلت کا قیدی |
| دیار | علاقہ یا شہر (یہاں مراد شہرِ مدینہ ہے) |
اس کلام میں نصیحت کی گئی ہے کہ دنیا کی عارضی چمک دمک اور امیروں کی باتوں سے دور رہ کر صرف سچے دل والوں کی محفل سجانی چاہیے جہاں عشقِ حقیقی کا سرور ہو۔ شاعر 'اختر' (حضرت اختر رضا خان) آخر میں کہتے ہیں کہ اگر انسان ہر وقت روحانی سکون اور وجد (کیفیت) میں رہنا چاہتا ہے، تو اسے ہر گھڑی صرف اور صرف دیارِ مدینہ کی باتیں کرنی چاہئیں۔
شاعر 'اختر' کے مطابق ہر گھڑی وجد اور سکون میں رہنے کے لیے کس دیار (شہر) کی باتیں کرنی چاہئیں؟