, کچھ کریں اپنے یار کی باتیں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

کچھ کریں اپنے یار کی باتیں Lyrics In اردو

(کچھ کریں اپنے یار کی باتیں, کچھ دلِ داغدار کی باتیں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: کچھ کریں اپنے یار کی باتیں

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: اختر رضا خان ازہری

نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری

شامل کیا گیا: 05 Aug, 2023 10:48 AM IST

دیکھا گیا: 287

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

کچھ کریں اپنے یار کی باتیں،
کچھ دلِ داغدار کی باتیں۔

ہم تو دل اپنا دے ہی بیٹھے ہیں،
اب یہ کیا اختیار کی باتیں۔

میں بھی گزرا ہوں دورِ اُلفت سے،
مت سُنا مجھ کو پیار کی باتیں۔

اہلِ دل ہی یہاں نہیں کوئی،
کیا کریں حالِ زار کی باتیں۔

پی کے جامِ محبتِ جاناں،
اللہ اللہ خمار کی باتیں۔

مر نہ جانا متاعِ دنیا پر،
سن کے تُو مالدار کی باتیں۔

یوں نہ ہوتے اسیرِ ذلّت تم،
سُنتے گر ہوشیار کی باتیں۔

ہر گھڑی وجد میں رہے اختر،
کیجیے اُس دیار کی باتیں۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ صوفیانہ کلام اور نعت دل کی سچی تڑپ، عشقِ رسول ﷺ اور دنیا کی بے ثباتی کا ایک خوبصورت آئینہ ہے، جس میں دنیاوی مال و دولت کو چھوڑ کر محبوبِ خدا ﷺ کی یاد اور ان کے شہر (مدینہ) کے تذکرے پر زور دیا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ ہم اپنا دل تو پہلے ہی اپنے پیارے نبی ﷺ کو دے بیٹھے ہیں، اس لیے اب ہماری ذات پر ہمارا کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا کے مالداروں کی باتیں سن کر اس فانی دولت پر مت مٹو، بلکہ عقل مندوں کی نصیحت پر عمل کرو تاکہ ذلت اور رسوائی کی قید سے بچ سکو۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
دلِ داغدارعشق یا غم کا زخمی دل
اختیاربس میں ہونا / قابو یا حق
دورِ اُلفتمحبت کا زمانہ یا دور
حالِ زاربری حالت / دردناک احوال
خمارنشہ / سرور
متاعِ دنیادنیا کا مال و اسباب / فانی دولت
اسیرِ ذلّترسوائی اور ذلت کا قیدی
دیارعلاقہ یا شہر (یہاں مراد شہرِ مدینہ ہے)

خلاصہ (Summary)

اس کلام میں نصیحت کی گئی ہے کہ دنیا کی عارضی چمک دمک اور امیروں کی باتوں سے دور رہ کر صرف سچے دل والوں کی محفل سجانی چاہیے جہاں عشقِ حقیقی کا سرور ہو۔ شاعر 'اختر' (حضرت اختر رضا خان) آخر میں کہتے ہیں کہ اگر انسان ہر وقت روحانی سکون اور وجد (کیفیت) میں رہنا چاہتا ہے، تو اسے ہر گھڑی صرف اور صرف دیارِ مدینہ کی باتیں کرنی چاہئیں۔

شاعر 'اختر' کے مطابق ہر گھڑی وجد اور سکون میں رہنے کے لیے کس دیار (شہر) کی باتیں کرنی چاہئیں؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: