मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 65 بار دیکھا گیا
,
عنوان: جیئرا کہیلا بار بار ہم مدینہ جئیبے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: راہی بستوی
نعت خوان/ فنکار: راہی بستوی
شامل کیا گیا: 24 Sep, 2022 01:55 PM IST
دیکھا گیا: 5.1K
Time to read: 1 min read
جیئرا کہیلا بار بار ہم مدینہ جئیبے،
جیئرا کہیلا بار بار ہم مدینہ جئیبے،
جہیا بُلیئیں سرکار ہم مدینہ جئیبے،
جہیا بُلیئیں سرکار ہم مدینہ جئیبے
نہ چاہی روپیا پیسا نہ ہیرا موتیا،
نہ چاہی روپیا پیسا نہ ہیرا موتیا
آقا بڑھا دو ہمرے نینن کی جوتیا،
آقا بڑھا دو ہمرے نینن کی جوتیا
یادوں میں تمرے تڑپے ساری ساری رتیا،
یادوں میں تمرے تڑپے ساری ساری رتیا
قدموں پے جنّت کے بہار ہم مدینہ جئیبے،
قدموں پے جنّت کے بہار ہم مدینہ جئیبے
تمرے دوارے جاوے جب دھنونوا،
تمرے دوارے جاوے جب دھنونوا
کُھکے کریجا مورا تڑپیلا منوا،
بیرحہٰ کی اگنی میں جھُلسے پرنوا،
اب ناہی کربے انتظار ہم مدینہ جئیبے،
اب ناہی کربے انتظار ہم مدینہ جئیبے
جہیا بُلیئیں سرکار ہم مدینہ جئیبے،
جہیا بُلیئیں سرکار ہم مدینہ جئیبے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت نعتِ شریف بھوجپوری اور اودھی زبان کے امتزاج میں لکھی گئی ہے، جو ایک سیدھے سادھے عاشقِ رسول کے دل کی سادگی، بے چینی اور مدینہ منورہ جانے کی گہری تڑپ کو بڑے ہی دلنشین انداز میں ظاہر کرتی ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ میرا دل (جیئرا) بار بار یہی کہہ رہا ہے کہ میں مدینہ جاؤں گا، جب بھی میرے سرکار ﷺ مجھے بلائیں گے میں سب کچھ چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔ مجھے دنیا کا روپیہ پیسہ یا ہیرا موتی نہیں چاہیے، بس میرے آقا میری آنکھوں کی روشنی (جوتیا) بڑھا دیں تاکہ میں ان کا شہر دیکھ سکوں، کیونکہ ان کے قدموں میں ہی جنت کی اصل بہار ہے۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| جیئرا | دل / جی یا من |
| جہیا | جس دن / جب بھی |
| نینن کی جوتیا | آنکھوں کی روشنی / بینائی |
| رتیا | راتیں |
| دھنونوا | دھنوان / امیر لوگ |
| کُھکے کریجا | کلیجہ روتا ہے / دل تڑپتا ہے |
| بیرحہٰ (برہا) | جدائی / ہجر کا غم |
| پرنوا | پران / جان یا سانسیں |
شاعر کہتا ہے کہ جب وہ امیر لوگوں (دھنونوا) کو حضور ﷺ کے دربار کی طرف جاتے دیکھتا ہے، تو اس کا کلیجہ روٹھتا ہے اور جدائی کی آگ میں اس کی جان جھلسنے لگتی ہے۔ وہ ساری ساری رات اپنے آقا کی یاد میں تڑپتا ہے اور اب اس سے مزید انتظار نہیں ہوتا۔ ایک سچا عاشق دنیا کی تمام دولت کو ٹھکرا کر صرف اپنے آقا کے آستانے پر حاضری کا تمنائی ہے۔
شاعر کے مطابق، جب کسی دھنوانوا (امیر انسان) کو سرکار کے دوارے (دربار) جاتے دیکھتا ہے، تو اس کے دل اور پرنوا (پران) پر کیا اثر پڑتا ہے؟