मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: Ghar Ghar Ujala Ba Tohre Ghar Se
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: شمیم رضا فیضی
نعت خوان/ فنکار: شمیم رضا فیضی
شامل کیا گیا: 14 May, 2022 09:37 AM IST
دیکھا گیا: 3K ڈاؤن لوڈز: 177
Time to read: 1 min read
translate بول کی زبان منتخب کریں:
Ghar Ghar Ujala Ba Tohre Ghar Se
Angna Maa Aaqa Tohre Noor Barse
Aaqa Qayamat Ki Garmi Padat Ba
Aaqa Qayamat Ki Garmi Padat Ba
Dhoop Se Sara Badan Ba Jalat Ba
Chaadar Hataiyo Na More Sar Se
Angna Maa Aaqa Tohre Noor Barse
Gaare Soar Me Jab Band Bhailan Surkhwa
Das Kar Ke Siddique Se Kahe Lagal Sapwa
Charan Hataawa Aaqa Naina Tarse
Angna Maa Aaqa Tohre Noor Barse
Jaiyke Madine Me Kahna Bayariya
Ab To Bula Lo Aaqa Taiba Nagariya
Ab Mori Ankhiyan Se Sawan Barse
Angna Maa Aaqa Tohre Noor Barse
Ghar Ghar Ujala Ba Tohre Ghar Se
Angna Maa Aaqa Tohre Noor Barse
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ بھوجپوری اور اودھی زبان کے خوبصورت لوک رنگ میں لکھی گئی ایک انتہائی منفرد، مخلصانہ اور رقت انگیز نعتِ شریف ہے، جس میں سادہ اور مقامی الفاظ کے ذریعے حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہ میں والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم ہے کہ اے آقا ﷺ! دنیا کے گھر گھر میں جو ہدایت کا اجالا ہے وہ آپ ہی کے گھر (درِ اقدس) کا صدقہ ہے اور آپ کی برکت سے ہر آنگن میں نور برس رہا ہے۔ قیامت کے دن جب سخت دھوپ اور تپش سے سب کا بدن جل رہا ہوگا، تو میری آپ سے یہی التجا ہے کہ میرے سر سے اپنی رحمت اور شفاعت کی چادر مت ہٹائیے گا۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| اجالا با توہرے گھر سے | روشنی آپ ہی کے گھر سے ہے |
| گارے سور | غارِ ثور (مکہ کی وہ غار جہاں ہجرت کے وقت حضور ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے پناہ لی) |
| سپوا | سانپ |
| نینا ترسے | آنکھیں دیکھنے کو ترستی ہیں |
| بیاریا | ٹھنڈی ہوا / پروا بوجھ (صبا) |
| طیبہ نگریہ | مدینہ منورہ کی پاک نگری |
اس نعت میں شاعر نے دو نہایت خوبصورت پہلو بیاں کیے ہیں۔ پہلا واقعہ غارِ ثور کا ہے، جہاں سوراخ سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ڈسنے والے سانپ نے اپنی زبان میں التجا کی تھی کہ وہ برسوں سے حضور ﷺ کے دیدار (نینا ترسے) کے لیے بے چین تھا، اس لیے وہ اپنا قدم ہٹانے کی فریاد کر رہا تھا۔ دوسرا پہلو مدینے کی جدائی کا ہے، جس میں شاعر ٹھنڈی ہوا (بیاریا) سے منت کرتا ہے کہ وہ طیبہ جا کر میرا یہ پیغام پہنچائے کہ اب میری آنکھوں سے ساون کے آنسو برس رہے ہیں، لہٰذا اب مجھے بھی مدینے بلا لیا جائے۔
نعت کے مطابق، غارِ ثور میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کو ڈسنے کے بعد سانپ نے نبی ﷺ کے دیدار کے لیے کیا گزارش کی تھی؟