मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: چمن چمن کی دل کشی گلوں کی ہے وہ تازگی
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی
شامل کیا گیا: 07 Jan, 2023 11:59 AM IST
دیکھا گیا: 1K
Time to read: 3 min read
چمن چمن کی دل کشی
گلوں کی ہے وہ تازگی
چمن چمن کی دل کشی
گلوں کی ہے وہ تازگی
ہے چاند جن سے شبنمی
وہ کہکشاں کی روشنی
فضاؤں کی وہ راگنی
ہواوں کی وہ نگمگی
ہے کتنا پیارا نام بھی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
یہ آمد بہار ہے
وہ نور کی قطار ہے
فضا بھی خوشگوار ہے
ہوا بھی مشکبار ہے
ہوا سے میں نے جب کہا
یہ کون آ گیا بتا
ہوا پکارتی چلی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
اسلامی مصنوعات
زمین بنی زمان بنی
مکین بنے مکاں بنے
چونی بنے چونا بنے
وہ وجہ کن فکاں بنے
کہا جو میں نے، اے خدا!
یہ کس کے صدقے مین بنا
تو رب نہ بھی کہا یہی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
جو سدرہ پر نبی گئے
تو جبرائیل بولے یہ
زرا گیا ادھر پرے
تو جل پڑے گے پر میرے
نبی ہی آگے چل پڑے
وہ سدرہ سے نکل پڑے
زمیں پکارتی رہی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
وہ حسن لا زوال ہے
وہ عشق بے مثال ہے
جو چرخ کا ہلال ہے
نبی کا وہ بلال ہے
بدن سلگتی ریت پر
کی تھرتھرا اٹھا ہجر
زبان پہ تھا مگر یہی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
چلے جو قتل کو عمر
کہا کسی نہ روک کر
کہاں چلے ہو اور کدھر
مجاز کیوں ہے عرش پر
زرا بہن کی لو خبر
فدا ہے وہ رسول پر
وہ کہ رہی ہے ہر گھڑی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
عمر چلے بہن کے گھر
غضب میں سوچ سوچ کر
اُڈاعینگے گے ہم اُن کا سر
جو ہیں نبی کے دین پر
سنا ہے جب قرآن کو
خدا کے اُس بیان کو
عمر نہ بھی کہا یہی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
وہ ہجرتِ رسول ہے
فضاءِ دل ملول ہے
قدم قدم بابول ہے
قضا کی زد مین پھول ہے
علی کی ایک ذات ہے
کی تیگ پر حیات ہے
علی کے دل میں بس یہی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
وہ عشق کا حصول ہے
وہ سننیت کا پھول ہے
وہ ایسا با اصول ہے
کی عاشق رسول ہے
رضا سے میں جب کہا
یہ شان کس کی ہے اتا؟
رضا نے دی صدا یہی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
رضا کا یہ پیام ہے
وظیفہ تما م ہے
وہی تو نیک نام ہے
نبی کا جو غلام ہے
جو عاشقِ نبی ہوا
خدا کا وہ والی ہوا
وہی ہوا ہے جنتی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
مدینے کی زمیں رہے
وہ روضہ حسین رہے
مزارِ شاہِ دین رہے
غلام کی زبیں رہے
تو روح نکلے جھوم کے
در نبی کو چوم کے
یہی پکارتی ہوئی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
وہ جب سماں ہو حشر کا
ہر ایک شخص جا بہ جا
عزاب مین ہو مبتلا
کی یک با یک اٹھے صدا
سراپا نور آ گیا
میرے حضور آ گئے
تو کہ اُٹھے یہ امتی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
تھکی تھکی رکی رکی
کسی ترہ دبی لچی
حلیمہ کی اونٹنی
جو مککے میں پہنچ گئی
تھے سارے بچے جا چکے
جگہ وہ اپنی پا چکے
بچہ تھا ایک آخری
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
وہ روح کے تبیب سے
اسد! کبھی نصیب سے
خدا کے اس حبیب سے
ملوگے جب قریب سے
نبی کی ایک ذات ہے
جو ممباء حیات ہے
ملے گی دائمی خوشی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ پاک نبی کریم ﷺ کی عظمت، مرتبے اور ان کی سلطنت کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس پوری کائنات کا نظام اور ہر نعمت انہی کے صدقے میں ہے۔
اس کلام کا مطلب ہے کہ دنیا کی ہر خوبصورتی، فضاؤں کی سریلی آواز اور چاند تاروں کی روشنی حضور ﷺ کے نور کا صدقہ ہے۔ چاہے حضرت جبرائیل کا سدرہ پر رکنا ہو، حضرت بلال کا تپتی ریت پر ڈٹے رہنا ہو، یا حضرت عمر کا اسلام لانا—تاریخ کے ہر موڑ پر صرف نبی ﷺ کے نام کی گونج رہی ہے۔
| الفاظ (Word) | معانی (Meaning) |
|---|---|
| دل کشی | خوبصورتی / اٹریکشن (Attractiveness) |
| مشکبار | کستوری جیسی خوشبو والا (Fragrant) |
| وجہِ کن فکاں | کائنات کے بننے کی وجہ (Reason for creation) |
| سدرہ | ساتویں آسمان کی آخری حد پر واقع ایک مقام |
| حسنِ لا زوال | کبھی ختم نہ ہونے والا حسن / خوبصورتی |
| چرخ کا ہلال | آسمان کا نیا چاند (Crescent moon) |
| ملول | اداس یا غمگین (Sad) |
| منبعِ حیات | زندگی کا چشمہ / اصل زندگی (Source of life) |
| دائمی | ہمیشہ رہنے والی (Eternal) |
شاعر 'اسد' کہتے ہیں کہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اور ہر جاندار حضور ﷺ کے صدقے میں پیدا کیا گیا ہے۔ نبی ﷺ کی ذات ہی اصل میں زندگی کا سرچشمہ ہے؛ جو کوئی بھی سچے دل سے ان کا غلام اور عاشق بن جاتا ہے، وہ خدا کا ولی بن جاتا ہے اور اسے ہمیشہ رہنے والی جنتی خوشی حاصل ہوتی ہے۔
شاعر کے مطابق معراج کی رات جبرائیل نے سدرہ پر کیا کہا تھا، اور کائنات کو کس کے صدقے میں بنایا گیا ہے؟