, آپ اگر بلالینگے یا نبی مدینے میں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

آپ اگر بلالینگے یا نبی مدینے میں Lyrics In اردو

(آپ اگر بلالینگے یا نبی مدینے میں, عمر بھر کرونگا میں نوکری مدینے میں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: آپ اگر بلالینگے یا نبی مدینے میں

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 05 Oct, 2022 05:49 PM IST

دیکھا گیا: 3.4K

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

آپ اگر بلالینگے یا نبی مدینے میں،
عمر بھر کرونگا میں نوکری مدینے میں

مصطفیٰ کے گمبد کا حسن ہی کچھ ایسا ہے،
جبریل آتے ہیں آج بھی مدینے میں

اپنے گھر کی چوکھٹ کو پھر نہ موڈ کے دیکھونگا،
مصطفیٰ اتا کر دے جھوپڈی مدینے میں

کاش مجھسے ہو جائے بھول سے کھتا کوئی،
اس گرز سے لگ جائے ہتھکڈی مدینے میں

آپ اگر بلالینگے یا نبی مدینے میں،
عمر بھر کرونگا میں نوکری مدینے میں

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ دلکش اور مقبول نعتِ شریف سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضری اور دیارِ مدینہ میں عمر گزارنے کی ایک سچے عاشقِ رسولؐ کے دل کی والہانہ خواہش اور بے پناہ تڑپ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ اگر آقا ﷺ ایک بار کرم فرما کر مدینے بلا لیں، تو شاعر ہمیشہ کے لیے اپنے وطن اور گھر بار کو بھول کر وہاں ان کا غلام (نوکر) بن کر رہنے کو تیار ہے۔ وہ کہتا ہے کہ گنبدِ خضریٰ کا حسن اس قدر لاجواب ہے کہ اسے دیکھنے کے لیے آج بھی حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لاتے ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی (Urdu)
نوکریخدمت / غلامی یا چاکری
حسنخوبصورتی / دلکشی
چوکھٹگھر کی دلیز / دروازہ
اتا (عطا) کر دےبخش دینا / انعام میں دینا
کھتا (خطا)بھول چوک / غلطی
گرز (غرض)مقصد / نیت یا مطلب

خلاصہ (Summary)

شاعر مدینہ منورہ کی گلیوں میں بسنے کے لیے اس حد تک بے قرار ہے کہ وہ آقا ﷺ سے وہاں ایک چھوٹی سی جھونپڑی عطا کرنے کی التجا کرتا ہے۔ وہ اپنے دل کا انوکھا ارمان بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کاش مجھ سے وہاں بھولے سے کوئی ایسی خطا ہو جائے جس کی سزا کے طور پر مجھے مدینے کی پاک زمین پر ہتھکڑی لگا دی جائے، تاکہ مجھے کبھی وہ مقدس شہر چھوڑ کر واپس جانا ہی نہ پڑے۔

شاعر کس غرض (مقصد) سے مدینے میں بھول سے کوئی خطا کرنے اور ہتھکڑی لگنے کی خواہش نصیب ہونے کی بات کر رہا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں