मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 52 بار دیکھا گیا
,
عنوان: آپ اگر بلالینگے یا نبی مدینے میں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: زین العابدین کانپوری
نعت خوان/ فنکار: زین العابدین کانپوری
شامل کیا گیا: 05 Oct, 2022 05:49 PM IST
دیکھا گیا: 3.4K
Time to read: 1 min read
آپ اگر بلالینگے یا نبی مدینے میں،
عمر بھر کرونگا میں نوکری مدینے میں
مصطفیٰ کے گمبد کا حسن ہی کچھ ایسا ہے،
جبریل آتے ہیں آج بھی مدینے میں
اپنے گھر کی چوکھٹ کو پھر نہ موڈ کے دیکھونگا،
مصطفیٰ اتا کر دے جھوپڈی مدینے میں
کاش مجھسے ہو جائے بھول سے کھتا کوئی،
اس گرز سے لگ جائے ہتھکڈی مدینے میں
آپ اگر بلالینگے یا نبی مدینے میں،
عمر بھر کرونگا میں نوکری مدینے میں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ دلکش اور مقبول نعتِ شریف سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضری اور دیارِ مدینہ میں عمر گزارنے کی ایک سچے عاشقِ رسولؐ کے دل کی والہانہ خواہش اور بے پناہ تڑپ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اگر آقا ﷺ ایک بار کرم فرما کر مدینے بلا لیں، تو شاعر ہمیشہ کے لیے اپنے وطن اور گھر بار کو بھول کر وہاں ان کا غلام (نوکر) بن کر رہنے کو تیار ہے۔ وہ کہتا ہے کہ گنبدِ خضریٰ کا حسن اس قدر لاجواب ہے کہ اسے دیکھنے کے لیے آج بھی حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لاتے ہیں۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| نوکری | خدمت / غلامی یا چاکری |
| حسن | خوبصورتی / دلکشی |
| چوکھٹ | گھر کی دلیز / دروازہ |
| اتا (عطا) کر دے | بخش دینا / انعام میں دینا |
| کھتا (خطا) | بھول چوک / غلطی |
| گرز (غرض) | مقصد / نیت یا مطلب |
شاعر مدینہ منورہ کی گلیوں میں بسنے کے لیے اس حد تک بے قرار ہے کہ وہ آقا ﷺ سے وہاں ایک چھوٹی سی جھونپڑی عطا کرنے کی التجا کرتا ہے۔ وہ اپنے دل کا انوکھا ارمان بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کاش مجھ سے وہاں بھولے سے کوئی ایسی خطا ہو جائے جس کی سزا کے طور پر مجھے مدینے کی پاک زمین پر ہتھکڑی لگا دی جائے، تاکہ مجھے کبھی وہ مقدس شہر چھوڑ کر واپس جانا ہی نہ پڑے۔
شاعر کس غرض (مقصد) سے مدینے میں بھول سے کوئی خطا کرنے اور ہتھکڑی لگنے کی خواہش نصیب ہونے کی بات کر رہا ہے؟