وضاحت (Explanation)
کھانا شروع کرنے سے پہلے اللہ کا نام لینا اور اس کی برکت طلب کرنا ایک عظیم روحانی عمل ہے۔ یہ دعا اس بات کا اعتراف ہے کہ جو رزق ہمارے سامنے موجود ہے، وہ ہماری اپنی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے۔ جب ہم اللہ کے نام سے آغاز کرتے ہیں، تو اس کھانے سے منفی اثرات اور شیطان کی شرکت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ عمل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ ہی ہمارا حقیقی "رازق" ہے، جس سے نہ صرف پیٹ بھرتا ہے بلکہ روح کو بھی سکون ملتا ہے اور انسان میں شکر گزاری کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔
کیا اس کا کوئی قرآنی یا حدیثی حوالہ ہے؟
- حدیث کا حوالہ: نبی کریم ﷺ نے کھانا شروع کرنے سے پہلے اللہ کا نام لینے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ سنن ابوداؤد (حدیث: 3767) میں روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اللہ کا نام لے (یعنی بسم اللہ پڑھے)۔" اگر شروع میں بھول جائے تو یہ کہے: "بِسْمِ اللہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗ" (اللہ کے نام سے اس کے شروع اور آخر میں)۔
- قرآنی حوالہ: اگرچہ یہ مخصوص دعا سنت سے ثابت ہے، لیکن قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ" (پس اس میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو - سورۃ الانعام: 118)۔ یہ آیت کھانے پر اللہ کا نام لینے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
خلاصہ (Summary)
کھانا شروع کرنے سے پہلے اللہ کا نام لینا کھانے میں برکت اور جسم میں قوت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنا ہمیں شیطان کے اثر سے محفوظ رکھتا ہے اور ہمارے رزق کو بابرکت بناتا ہے۔ اس مختصر سی دعا سے ہمارا کھانا محض ایک ضرورت نہیں بلکہ ایک عبادت بن جاتا ہے۔ یہ ہمیں ہر نوالے کے ساتھ اپنے خالق کی نعمتوں کا احساس دلاتی ہے۔
اگر کھانا شروع کرتے وقت "بسم اللہ" کہنا بھول جائیں، تو کیا کرنا چاہیے؟