मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 3 ہفتے پہلے fiber_manual_record 337 بار دیکھا گیا
,
عنوان: گلشنِ اعلیٰ حضرت کی جو جان ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 05 Aug, 2023 06:24 PM IST
دیکھا گیا: 2.5K
Time to read: 2 min read
گلشنِ اعلیٰ حضرت کی جو جان ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
مسلکِ اعلیٰ حضرت کی پہچان ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
جس کے والد مفسّر ہیں قرآن کے،
جس کے دادا محافظ ہیں ایمان کے،
جس کا نانا بریلی کا سلطان ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
گلشنِ اعلیٰ حضرت کی جو جان ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
جس کے بابا ولی، جس کے تایا ولی،
جس کے دادا ولی، جس کے نانا ولی،
جس کی عظمت پہ ہر اِک قربان ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
علم و تقویٰ کی جو پیاری تصویر ہے،
جس نے پائی عظیمت کی تنویر ہے،
استقامت کی مضبوط چٹان ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
جو علومِ رضا کا ہے وارث بنا،
جس کے سر فخرِ اَزہر کا سہرا سجا،
وہ بریلی کا اختر رضا خان ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
تیز تلوار سی جس کی تحریر ہے،
اور بجلی سی مانند تقریر ہے،
دشمنِ دین جس سے پریشان ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
جس کی نظرِ ولایت کے ہیں تذکرے،
اب بھی جاری کرامت کے ہیں سلسلے،
ہند میں چار سُو جس کا فیضان ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
ایک سروں کا سمندر بریلی میں تھا،
مرے مرشد کا جس دم جنازہ اُٹھا،
آج بھی عقلِ اِنساں حیران ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
حُسنِ اختر کو کیسے کروں میں بیاں،
جس کے چہرے کو میں دیکھتا رہ گیا،
دیکھ کر جس کو مُسکایا ایمان ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
کر رہا ہوں میں مرشد کی عظمت بیاں،
میرے پیشِ نظر ان کا ہے آستاں،
میرے اختر رضا کا یہ فیضان ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
کفر کی آندھیوں سے بھی ٹکرا گیا،
رَب نے بخشا تھا ایسا اسے حوصلہ،
آصِمُ القادری جس پہ قربان ہے،
میرے تاجُ الشریعہ کی کیا شان ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت مفتی اختر رضا خان بریلوی (تاج الشریعہ) کی علمی و روحانی عظمت، ان کے اعلیٰ نسب اور دینِ اسلام کے لیے ان کی خدمات کا ایک خوبصورت نذرانہ ہے، جس میں انہیں مسلکِ اعلیٰ حضرت کا حقیقی پاسبان قرار دیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ تاج الشریعہ کا تعلق ایک ایسے بابرکت خاندان سے ہے جس کے نانا اعلیٰ حضرت (بریلی کے سلطان) اور خاندان کے تمام بزرگ اولیاء اللہ ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ان کی علمی تحریر تلوار کی طرح کاٹ دار اور ان کی تقریر بجلی کی طرح اثر انگیز تھی، جس نے باطل قوتوں کو ہمیشہ مغلوب رکھا اور پورے ہندوستان کو اپنے فیض سے روشن کیا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| تاج الشریعہ | شریعت کا تاج (مفتی اختر رضا خان کا لقب) |
| مفسّر | قرآن پاک کی تفسیر و تشریح کرنے والا |
| محافظ | حفاظت کرنے والا / پاسبان |
| تنویر | روشنی / نورانی چمک |
| استقامت | ثابت قدمی / اپنے موقف پر ڈٹے رہنا |
| فخرِ اَزہر | جامعہ الازہر (مصر) کا فخر و ناز |
| مانند | طرح / جسیے |
| چار سُو | چاروں طرف / ہر جگہ |
اس کلام میں بتایا گیا ہے کہ حضور تاج الشریعہ علم، تقویٰ اور شجاعت کا وہ ہمالیہ تھے جو باطل کی آندھیوں کے سامنے بھی چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ شاعر 'عاصم القادری' کہتے ہیں کہ بریلی شریف کی سرزمیں پر اٹھنے والا ان کا جنازہ، جس میں لاکھوں انسانوں کا سمندر امڈ آیا تھا، ان کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے اور ان کا نورانی چہرہ دیکھ کر خود ایمان کو تازگی ملتی تھی۔
لیرکس کے مطابق تاج الشریعہ کے نانا کون ہیں اور ان کی تقریر کو کس کے مانند (طرح) بتایا گیا ہے؟